کشمیر میں خواتین کی چُٹیا کاٹنے کے افسوسناک واقعات میں اضافہ، کشمیری بھارت کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے

0
27


سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے طلباء نے مقبوضہ علاقے میں خواتین کی چٹیاکاٹنے کے تیزی سے بڑھتے واقعات کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے خواتین خاص طورپر لڑکیوں کی چوٹیاں کاٹنے کے شرمناک واقعات کے خلا ف طلباء کو احتجاجی مظاہرے کرنے کیلئے کہاتھا ۔تاہم کٹھ پتلی انتظامیہ نے مظاہروں کو روکنے کیلئے پوری وادی کشمیرمیں سکولوں کو بند کرنے کا اعلان کردیا۔ حریت رہنماؤں نے چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کے خلاف آج نماز جمعہ

کے بعد بھی پورے مقبوضہ علاقے میں مظاہرے کرنے کی کال دی ہے۔کشمیر یونیورسٹی سرینگر کے طلباء نے بڑی تعداد میں چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کے خلاف کیمپس میں مظاہرے کئے ۔ سینٹرل یونیورسٹی آ ف کشمیر کے نوگام کیمپس کے طلبا ء نے بھی وادی کشمیرمیں ان شرمناک واقعات کے خلاف مظاہرہ کیا۔ طلباء جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ لوگوں نے چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کے خلاف مائسمہ اور گاندربل میں بھی مظاہرے کئے ۔بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ ریاستی دہشت گردی کے ایک نئے حربے کے طور پر کشمیری خواتین کو کیمیکل چھڑک کر بیہوش کرنے یا پھر ان کو زبردستی گرفت میں لینے کے بعد انکی چٹیا کاٹ دیتے ہیں۔ مقامی افراد نے کہا کہ اس نئے ہتھکنڈے کا مقصد خواتین کے اندر عدم تحفظ اور خوف و دہشت پیدا کرنا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مقبوضہ وادی میں چُٹیا کاٹنے کے 100سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔دریں اثنا کٹھ پتلی انتظامیہ نے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک، مختار احمد وازہ اور ظفر اکبر بٹ کو بدستور گھروں میں نظر بند رکھا۔ انتظامیہ نے پروفیسر حمیدہ نعیم کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا ہےجبکہ حریت رہنما غلام محمد خان سوپوری سمیت آٹھ افراد پر تیسری مرتبہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا ہے۔ سید علی گیلانی نے ایک بیان میں اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے اپنے بیانات میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی گھروں اور تھانوں میں مسلسل نظر بندی کی مذمت کی ہے۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے کہا ہے سات پارٹی رہنماؤں کو سینٹرل جیل سرینگر سے باہر قدم رکھتے ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔بھارتی فوجیوں کے ہاتھو ں نوجوانوں کی حالیہ شہادت پر شوپیاں اور حاجن کے علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما بلال صدیقی اور یاسمین راجہ اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کا ایک وفد شہید نوجوانوں کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کے گھروں میں گئے۔ دختران ملت نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ تنظیم کی غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرپرسن آسیہ اندرابی کو طبی سہولیات سے مسلسل محروم رکھ رہی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی چٹیا کاٹنے کی صورت میں انکی بے حرمتی کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

موضوعات:

Have Your Say